مختصر 🎙️
سبق-1
تفصيل 🎙️
مختصر 🎙️
سوال و جواب 1
تفصيل 🎙️
مختصر 🎙️
کوئز-1
تفصيل 🎙️
تين سالہ عالمہ کورس
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
1️⃣ رسول اللہ ﷺ صدقہ فطر (عید کی) نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [📚 صحیح بخاری: 1509]
1️⃣ رسول اللہ ﷺ صدقہ فطر (عید کی) نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [📚 صحیح بخاری: 1509]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
2️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر (گھر سے) عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ [📚 ابن ماجہ: 1754]
2️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر (گھر سے) عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ [📚 ابن ماجہ: 1754]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
3️⃣ رسول اللہ ﷺ طاق عدد (1، 3، 5، 7) کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ [📚 مسند احمد: 2838]
3️⃣ رسول اللہ ﷺ طاق عدد (1، 3، 5، 7) کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ [📚 مسند احمد: 2838]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
4️⃣ رسول اللہ ﷺ عید (کی نماز) کے لیے (عید گاہ) پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔ [📚 ابن ماجہ: 1294]
4️⃣ رسول اللہ ﷺ عید (کی نماز) کے لیے (عید گاہ) پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔ [📚 ابن ماجہ: 1294]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
5️⃣ جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (عید گاہ) جاتے اور واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لیا کرتے تھے۔ [📚 مشکاۃ: 1434]
5️⃣ جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (عید گاہ) جاتے اور واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لیا کرتے تھے۔ [📚 مشکاۃ: 1434]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
6️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلتے تو تکبیر کہتے ہوئے عید گاہ پہنچتے، یہاں تک کہ جب عید کی نماز مکمل کر لیتے تو تکبیر کہنا ختم کر دیتے۔ [📚 السلسلۃ الصحیحۃ: 570]
6️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلتے تو تکبیر کہتے ہوئے عید گاہ پہنچتے، یہاں تک کہ جب عید کی نماز مکمل کر لیتے تو تکبیر کہنا ختم کر دیتے۔ [📚 السلسلۃ الصحیحۃ: 570]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[الفاظِ تکبیر] اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد.
[الفاظِ تکبیر] اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
7️⃣ عید کے دن غسل کرنا، عمدہ لباس پہننا اور ایک دوسرے سے یہ کلمات کہنا: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
7️⃣ عید کے دن غسل کرنا، عمدہ لباس پہننا اور ایک دوسرے سے یہ کلمات کہنا: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ نمازِ عید کا طریقہ اور مختصر مسائل
✨ نمازِ عید کا طریقہ اور مختصر مسائل
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
رکعات کی تعداد: 2
رکعات کی تعداد: 2
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
طریقہ (پہلی رکعت):
طریقہ (پہلی رکعت):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہیں۔
* سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دعائے استفتاح (ثنا) پڑھیں۔
* دعائے استفتاح (ثنا) پڑھیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* 7 تکبیرات کہیں [جس طرح رفع الیدین کرتے ہوئے عام تکبیر کہی جاتی ہے، اسی طرح یہ تکبیرات بھی کہنی ہیں]۔
* 7 تکبیرات کہیں [جس طرح رفع الیدین کرتے ہوئے عام تکبیر کہی جاتی ہے، اسی طرح یہ تکبیرات بھی کہنی ہیں]۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کریں۔
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* رکوع اور سجود مکمل کریں۔ (پہلی رکعت مکمل ہوئی)۔
* رکوع اور سجود مکمل کریں۔ (پہلی رکعت مکمل ہوئی)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
طریقہ (دوسری رکعت):
طریقہ (دوسری رکعت):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دوسری رکعت کی تکبیر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
* دوسری رکعت کی تکبیر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* 5 تکبیرات کہیں [رفع الیدین کے ساتھ]۔
* 5 تکبیرات کہیں [رفع الیدین کے ساتھ]۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کریں۔
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* رکوع اور سجود کریں۔
* رکوع اور سجود کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* تشہد اور سلام پھیریں۔
* تشہد اور سلام پھیریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[حدیث]: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحٰی میں پہلی رکعت میں 7 تکبیریں اور دوسری رکعت میں 5 تکبیرات کہا کرتے تھے۔
[حدیث]: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحٰی میں پہلی رکعت میں 7 تکبیریں اور دوسری رکعت میں 5 تکبیرات کہا کرتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[📚 ابو داؤد: 1149 - صحیح]
[📚 ابو داؤد: 1149 - صحیح]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عید کی نماز کا وقت
✨ عید کی نماز کا وقت
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں: "عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے، مگر سنت ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز جلدی پڑھی جائے اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق مروی ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عید الفطر کی نماز سورج کے دو نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔"
ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں: "عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے، مگر سنت ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز جلدی پڑھی جائے اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق مروی ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عید الفطر کی نماز سورج کے دو نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[📚 مجموع الفتاویٰ: 16/229]
[📚 مجموع الفتاویٰ: 16/229]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ مردوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
✨ مردوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* ابن عثیمینؒ: "عید کی نماز مردوں کے لیے فرضِ عین ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/214]
* ابن عثیمینؒ: "عید کی نماز مردوں کے لیے فرضِ عین ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/214]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ بن بازؒ: "اکثر اہلِ علم کے نزدیک عید کی نماز فرضِ کفایہ ہے، جبکہ بعض اہلِ علم فرضِ عین کے قائل ہیں اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح (درست) ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
* شیخ بن بازؒ: "اکثر اہلِ علم کے نزدیک عید کی نماز فرضِ کفایہ ہے، جبکہ بعض اہلِ علم فرضِ عین کے قائل ہیں اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح (درست) ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عورتوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
✨ عورتوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ بن بازؒ: "خواتین کا عید کی نماز کے لیے جانا سنت ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائیں، نہ کہ خوشبو وغیرہ لگا کر۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
* شیخ بن بازؒ: "خواتین کا عید کی نماز کے لیے جانا سنت ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائیں، نہ کہ خوشبو وغیرہ لگا کر۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* اللجنۃ الدائمۃ: "عید کی نماز کے لیے عورتوں کا جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار کے بغیر جائیں۔" [📚 اللجنۃ الدائمۃ: 8/287]
* اللجنۃ الدائمۃ: "عید کی نماز کے لیے عورتوں کا جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار کے بغیر جائیں۔" [📚 اللجنۃ الدائمۃ: 8/287]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* ابن عثیمینؒ: "میرے خیال سے عورتوں کو عید گاہ جانے کا حکم دینا چاہیے تاکہ وہ خیر کا مشاہدہ کریں، نیز نماز اور دعاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو سکیں، بشرطیکہ باپردہ نکلیں اور خوشبو وغیرہ بالکل نہ لگائیں۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/211]
* ابن عثیمینؒ: "میرے خیال سے عورتوں کو عید گاہ جانے کا حکم دینا چاہیے تاکہ وہ خیر کا مشاہدہ کریں، نیز نماز اور دعاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو سکیں، بشرطیکہ باپردہ نکلیں اور خوشبو وغیرہ بالکل نہ لگائیں۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/211]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨عورت کا عیدگاہ جانا افضل ہے.
✨عورت کا عیدگاہ جانا افضل ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال: کیا عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا بہتر ہے یا اپنے گھر میں رہنا؟
سوال: کیا عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا بہتر ہے یا اپنے گھر میں رہنا؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ جواب:
خلاصہ جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا افضل ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ جوان لڑکیوں اور پردہ نشینوں کو بھی۔ لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، نہ زینت ظاہر کریں اور نہ خوشبو لگائیں؛ تاکہ وہ سنت پر عمل اور فتنے سے بچنے کے عمل کو یکجا کر سکیں۔
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا افضل ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ جوان لڑکیوں اور پردہ نشینوں کو بھی۔ لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، نہ زینت ظاہر کریں اور نہ خوشبو لگائیں؛ تاکہ وہ سنت پر عمل اور فتنے سے بچنے کے عمل کو یکجا کر سکیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب:
جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر، حمد و ثنا کے بعد:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر، حمد و ثنا کے بعد:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے (عید گاہ) نکلنا افضل ہے، اور اسی کا حکم نبی کریم ﷺ نے اسے دیا ہے۔
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے (عید گاہ) نکلنا افضل ہے، اور اسی کا حکم نبی کریم ﷺ نے اسے دیا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
امام بخاری ﴿٣٢٤﴾ اور امام مسلم ﴿٨٩٠﴾ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں:
امام بخاری ﴿٣٢٤﴾ اور امام مسلم ﴿٨٩٠﴾ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
> "رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں جوان لڑکیوں، حائضہ عورتوں اور پردہ نشین دوشیزاؤں کو باہر نکالیں۔ البتہ حائضہ خواتین نماز سے الگ رہیں گی اور خیر (بھلائی) و مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں گی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر (جلباب) نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔"
> "رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں جوان لڑکیوں، حائضہ عورتوں اور پردہ نشین دوشیزاؤں کو باہر نکالیں۔ البتہ حائضہ خواتین نماز سے الگ رہیں گی اور خیر (بھلائی) و مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں گی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر (جلباب) نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* (العواتق): عاتق کی جمع، وہ لڑکی جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو یا اس کے قریب ہو، یا شادی کے لائق ہو گئی ہو۔
* (العواتق): عاتق کی جمع، وہ لڑکی جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو یا اس کے قریب ہو، یا شادی کے لائق ہو گئی ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* (ذوات الخدور): کنواری لڑکیاں۔
* (ذوات الخدور): کنواری لڑکیاں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں عورتوں کے لیے عیدین میں حاضر ہونے کے استحباب کا ثبوت ہے، چاہے وہ جوان ہوں یا نہ ہوں، اور چاہے وہ باحیثیت (صاحبِ حسن) ہوں یا نہ ہوں۔"
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں عورتوں کے لیے عیدین میں حاضر ہونے کے استحباب کا ثبوت ہے، چاہے وہ جوان ہوں یا نہ ہوں، اور چاہے وہ باحیثیت (صاحبِ حسن) ہوں یا نہ ہوں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث عیدین میں عورتوں کے عید گاہ نکلنے کی مشروعیت پر فیصلہ کن ہیں، اس میں کنواری، شادی شدہ، جوان، بوڑھی، حائضہ اور دیگر عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، جب تک کہ وہ عدت میں نہ ہو، یا اس کا نکلنا فتنے کا باعث نہ ہو، یا اسے کوئی (شرعی) عذر نہ ہو۔"
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث عیدین میں عورتوں کے عید گاہ نکلنے کی مشروعیت پر فیصلہ کن ہیں، اس میں کنواری، شادی شدہ، جوان، بوڑھی، حائضہ اور دیگر عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، جب تک کہ وہ عدت میں نہ ہو، یا اس کا نکلنا فتنے کا باعث نہ ہو، یا اسے کوئی (شرعی) عذر نہ ہو۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے کیا افضل ہے، عید کی نماز کے لیے نکلنا یا گھر میں رہنا؟
عورت کے لیے کیا افضل ہے، عید کی نماز کے لیے نکلنا یا گھر میں رہنا؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ نے جواب دیا:
آپ نے جواب دیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"افضل یہی ہے کہ وہ عید کے لیے نکلے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ 'عواتق' اور 'ذوات الخدور' کو بھی—یعنی وہ خواتین بھی جن کی عادت باہر نکلنے کی نہیں ہوتی—انہیں بھی نکلنے کا حکم دیا۔ سوائے حائضہ خواتین کے، جنہیں نکلنے کا تو حکم دیا گیا لیکن مصلّٰی (عید گاہ) سے الگ رہنے کا کہا گیا۔ حائضہ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ عید کی نماز کے لیے نکلے گی، لیکن عید گاہ میں داخل نہیں ہوگی؛ کیونکہ عید گاہ مسجد کے حکم میں ہے، اور حائضہ کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں، البتہ وہاں سے گزرنا یا کوئی چیز پکڑنا جائز ہے۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں: عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے، مردوں کے ساتھ شریک ہونے اور وہاں حاصل ہونے والی خیر، ذکر اور دعا میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔"
"افضل یہی ہے کہ وہ عید کے لیے نکلے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ 'عواتق' اور 'ذوات الخدور' کو بھی—یعنی وہ خواتین بھی جن کی عادت باہر نکلنے کی نہیں ہوتی—انہیں بھی نکلنے کا حکم دیا۔ سوائے حائضہ خواتین کے، جنہیں نکلنے کا تو حکم دیا گیا لیکن مصلّٰی (عید گاہ) سے الگ رہنے کا کہا گیا۔ حائضہ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ عید کی نماز کے لیے نکلے گی، لیکن عید گاہ میں داخل نہیں ہوگی؛ کیونکہ عید گاہ مسجد کے حکم میں ہے، اور حائضہ کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں، البتہ وہاں سے گزرنا یا کوئی چیز پکڑنا جائز ہے۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں: عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے، مردوں کے ساتھ شریک ہونے اور وہاں حاصل ہونے والی خیر، ذکر اور دعا میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(مجموع فتاویٰ شیخ ابن عثیمین: 16/210)
(مجموع فتاویٰ شیخ ابن عثیمین: 16/210)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ نے یہ بھی فرمایا:
آپ نے یہ بھی فرمایا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، بناؤ سنگھار اور خوشبو کے بغیر، تاکہ وہ سنت پر عمل کرنے اور فتنے سے بچنے کو جمع کر سکیں۔ اور بعض عورتوں کی طرف سے جو تبرج (نمود و نمائش) اور خوشبو کا استعمال ہوتا ہے، وہ ان کی جہالت اور ان کے سرپرستوں کی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ یہ چیز اس عمومی شرعی حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی، جو کہ عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم ہے۔"
"لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، بناؤ سنگھار اور خوشبو کے بغیر، تاکہ وہ سنت پر عمل کرنے اور فتنے سے بچنے کو جمع کر سکیں۔ اور بعض عورتوں کی طرف سے جو تبرج (نمود و نمائش) اور خوشبو کا استعمال ہوتا ہے، وہ ان کی جہالت اور ان کے سرپرستوں کی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ یہ چیز اس عمومی شرعی حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی، جو کہ عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم ہے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ اعلم
واللہ اعلم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عورت کا گھر میں اکیلے یا باجماعت نماز پڑنے کا حکم.
✨ عورت کا گھر میں اکیلے یا باجماعت نماز پڑنے کا حکم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح العثيمين رحمه الله ⬇️
شیخ صالح العثيمين رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال:
سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عراق کے صوبہ بصرہ سے ایک طالبہ (س۔ ع) پوچھتی ہیں: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھے؟
عراق کے صوبہ بصرہ سے ایک طالبہ (س۔ ع) پوچھتی ہیں: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب (شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ):
جواب (شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خواتین کے حق میں مشروع (پسندیدہ) یہی ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ عید گاہ میں نمازِ عید ادا کریں؛ کیونکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ:
خواتین کے حق میں مشروع (پسندیدہ) یہی ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ عید گاہ میں نمازِ عید ادا کریں؛ کیونکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
> "نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ عورتیں (عید کے لیے) نکلیں، یہاں تک کہ حیض والی خواتین اور پردہ نشین دوشیزائیں بھی باہر آئیں، تاکہ وہ خیر (بھلائی) اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی خواتین نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے علیحدہ رہیں۔"
> "نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ عورتیں (عید کے لیے) نکلیں، یہاں تک کہ حیض والی خواتین اور پردہ نشین دوشیزائیں بھی باہر آئیں، تاکہ وہ خیر (بھلائی) اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی خواتین نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے علیحدہ رہیں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
چنانچہ سنت یہی ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلیں۔ رہا عورتوں کا گھروں میں نماز (عید) پڑھنا، تو میرے علم میں اس بارے میں کوئی سنت نہیں ہے۔ واللہ اعلم.
چنانچہ سنت یہی ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلیں۔ رہا عورتوں کا گھروں میں نماز (عید) پڑھنا، تو میرے علم میں اس بارے میں کوئی سنت نہیں ہے۔ واللہ اعلم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ عورتوں کی نمازِ عید کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے پاس خواتین کے لیے کوئی علیحدہ عید گاہ (مصلّٰی) نہیں ہے، تو کیا میں عورتوں کو اپنے گھر میں جمع کر کے انہیں نمازِ عید پڑھا سکتی ہوں؟ یاد رہے کہ میرا گھر پردے والا ہے اور مردوں سے دور ہے۔
ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ عورتوں کی نمازِ عید کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے پاس خواتین کے لیے کوئی علیحدہ عید گاہ (مصلّٰی) نہیں ہے، تو کیا میں عورتوں کو اپنے گھر میں جمع کر کے انہیں نمازِ عید پڑھا سکتی ہوں؟ یاد رہے کہ میرا گھر پردے والا ہے اور مردوں سے دور ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب:
جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل "بدعت" ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ باجماعت ہوتی ہے۔ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عید گاہ جائے تاکہ مردوں کے ساتھ (ان کے پیچھے) نماز پڑھے، بشرطیکہ وہ مردوں سے دور رہے اور اختلاط (میل جول) نہ ہو۔
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل "بدعت" ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ باجماعت ہوتی ہے۔ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عید گاہ جائے تاکہ مردوں کے ساتھ (ان کے پیچھے) نماز پڑھے، بشرطیکہ وہ مردوں سے دور رہے اور اختلاط (میل جول) نہ ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
رہا عورتوں کا اپنے گھر میں نمازِ عید قائم کرنا، تو یہ ایک بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ عورتوں نے گھروں میں نمازِ عید قائم کی ہو۔
رہا عورتوں کا اپنے گھر میں نمازِ عید قائم کرنا، تو یہ ایک بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ عورتوں نے گھروں میں نمازِ عید قائم کی ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(ماخوذ از: فتاویٰ نور علی الدرب، جلد 8، صفحہ 189)
(ماخوذ از: فتاویٰ نور علی الدرب، جلد 8، صفحہ 189)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
_________________________
_________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال:
سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
گزشتہ سالوں میں ہمارے ہاں دیہات کی خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے مکمل طریقے سے عیدین کی نماز قائم کی، اور ایک دین کی سمجھ رکھنے والی خاتون ان کی امامت کر رہی تھیں۔ ان کے جمع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ مردوں کی عید گاہ پیدل دو گھنٹے کی مسافت پر تھی اور مرد انہیں وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔ سائل اس موضوع کی تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں پوچھتے ہیں کہ: ان خواتین کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
گزشتہ سالوں میں ہمارے ہاں دیہات کی خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے مکمل طریقے سے عیدین کی نماز قائم کی، اور ایک دین کی سمجھ رکھنے والی خاتون ان کی امامت کر رہی تھیں۔ ان کے جمع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ مردوں کی عید گاہ پیدل دو گھنٹے کی مسافت پر تھی اور مرد انہیں وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔ سائل اس موضوع کی تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں پوچھتے ہیں کہ: ان خواتین کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب (سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله):
جواب (سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
میرے علم میں اس میں کوئی حرج (ممانعت) نہیں ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مشروع (ثابت) ہے، اور سنت یہ ہے کہ اس کے لیے کھلے میدان میں جایا جائے۔
میرے علم میں اس میں کوئی حرج (ممانعت) نہیں ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مشروع (ثابت) ہے، اور سنت یہ ہے کہ اس کے لیے کھلے میدان میں جایا جائے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
پس اگر عورتوں کے لیے باہر نکلنا ممکن نہ ہو کہ وہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکیں، اور وہ اپنے گھروں میں اکیلے یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انہیں اس پر بڑا اجر ملے گا۔ جی ہاں۔
پس اگر عورتوں کے لیے باہر نکلنا ممکن نہ ہو کہ وہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکیں، اور وہ اپنے گھروں میں اکیلے یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انہیں اس پر بڑا اجر ملے گا۔ جی ہاں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ:
خلاصہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ ابن بازؒ کے مطابق اگر عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ نہ جا سکیں، تو وہ گھر میں اکیلے یا باجماعت نمازِ عید ادا کر سکتی ہیں۔
* شیخ ابن بازؒ کے مطابق اگر عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ نہ جا سکیں، تو وہ گھر میں اکیلے یا باجماعت نمازِ عید ادا کر سکتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
____________________________
____________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
دونوں اہل علم کے فتاوى کا خلاصہ.
دونوں اہل علم کے فتاوى کا خلاصہ.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۱- عورت کے لیے اصل عیدگاہ جانا ہی ہے.
۱- عورت کے لیے اصل عیدگاہ جانا ہی ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۲- کسی بہت عذر کی صورت یا خواتين کا عیدگاہ میں انتظام نہ ہونے کی صورت میں اگر کوئی گھر میں پڑتی ہے تو شیخ بن باز کے نزدیک جائز ہے.
۲- کسی بہت عذر کی صورت یا خواتين کا عیدگاہ میں انتظام نہ ہونے کی صورت میں اگر کوئی گھر میں پڑتی ہے تو شیخ بن باز کے نزدیک جائز ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۳-اس اختلاف سے بچنے کی اور سنت کے قریب ہونے کی سب سے بہترین صورت یہی ہے کہ خواتين عید کی نماز کے لیے عیدگاہ جائیں جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حديث سے واضح ہے.
۳-اس اختلاف سے بچنے کی اور سنت کے قریب ہونے کی سب سے بہترین صورت یہی ہے کہ خواتين عید کی نماز کے لیے عیدگاہ جائیں جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حديث سے واضح ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
📌خواتین کو اہم نصیحت.
📌خواتین کو اہم نصیحت.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
تمام خواتین اپنی طرف سے پوری کوشش کریں عید کی نماز عیدگاہ میں جا کر ادا کرنے کی.
تمام خواتین اپنی طرف سے پوری کوشش کریں عید کی نماز عیدگاہ میں جا کر ادا کرنے کی.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ایسا نہ کیا جاۓ کہ آپ اپنے دوسرے کاموں میں خود کو اس قدر الجھا لیں کہ عید کے نماز کے وقت کے مطابق اپنے کام ہی نہ مکمل کر پائیں اور نماز ہو جاۓ پھر آپ گھروں میں پڑنے کی آسانی ڈھونڈتی رہیں ایسا کرنا خلاف سنت ہے.
ایسا نہ کیا جاۓ کہ آپ اپنے دوسرے کاموں میں خود کو اس قدر الجھا لیں کہ عید کے نماز کے وقت کے مطابق اپنے کام ہی نہ مکمل کر پائیں اور نماز ہو جاۓ پھر آپ گھروں میں پڑنے کی آسانی ڈھونڈتی رہیں ایسا کرنا خلاف سنت ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس لیے پہلے سے ہی خود کو تیار رکھیں اور عید کی نماز کو عیدگاہ جا کر مردوں کے پیچھے (پردے کے ساتھ بغیر اختلاط کے) ادا کریں.
اس لیے پہلے سے ہی خود کو تیار رکھیں اور عید کی نماز کو عیدگاہ جا کر مردوں کے پیچھے (پردے کے ساتھ بغیر اختلاط کے) ادا کریں.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨عید گاہ آنے والے کے لیے شرعی احکامات اور عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں دوسرے نوافل اور تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم.
✨عید گاہ آنے والے کے لیے شرعی احکامات اور عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں دوسرے نوافل اور تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال: سائل نے شیخ بن باز رحمه الله سے سوال کیا میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ جب عید کی نماز کے لیے آتے ہیں تو دو رکعت (نفل) پڑھتے ہیں اور بعض نہیں پڑھتے۔ کچھ لوگ نماز سے پہلے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور کچھ تکبیرات (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، وللہ الحمد) میں مصروف رہتے ہیں۔
سوال: سائل نے شیخ بن باز رحمه الله سے سوال کیا میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ جب عید کی نماز کے لیے آتے ہیں تو دو رکعت (نفل) پڑھتے ہیں اور بعض نہیں پڑھتے۔ کچھ لوگ نماز سے پہلے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور کچھ تکبیرات (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، وللہ الحمد) میں مصروف رہتے ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ سے گزارش ہے کہ ان امور میں شرعی حکم واضح فرمائیں، اور کیا اس میں کوئی فرق ہے کہ نماز مسجد میں ہو رہی ہو یا عید گاہ (کھلے میدان) میں؟
آپ سے گزارش ہے کہ ان امور میں شرعی حکم واضح فرمائیں، اور کیا اس میں کوئی فرق ہے کہ نماز مسجد میں ہو رہی ہو یا عید گاہ (کھلے میدان) میں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب: سنت طریقہ یہ ہے کہ جو شخص عید کی نماز یا نمازِ استسقاء کے لیے عید گاہ آئے، وہ (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جائے اور تحیۃ المسجد ادا نہ کرے؛ کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے، نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ سے ایسا کرنا منقول نہیں ہے۔
جواب: سنت طریقہ یہ ہے کہ جو شخص عید کی نماز یا نمازِ استسقاء کے لیے عید گاہ آئے، وہ (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جائے اور تحیۃ المسجد ادا نہ کرے؛ کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے، نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ سے ایسا کرنا منقول نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
البتہ! اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو، تو وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عام ہے: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے" (اس کی صحت پر اتفاق ہے)۔
البتہ! اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو، تو وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عام ہے: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے" (اس کی صحت پر اتفاق ہے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اور جو شخص بیٹھ کر عید کی نماز کا انتظار کر رہا ہو، اس کے لیے مشروع (پسندیدہ) یہ ہے کہ وہ کثرت سے تہلیل اور تکبیر (اللہ کی بڑائی اور وحدانیت کا ذکر) کرے؛ کیونکہ یہ اس دن کا شعار ہے اور مسجد و مسجد سے باہر سب کے لیے یہی سنت ہے یہاں تک کہ خطبہ ختم ہو جائے۔ اور اگر کوئی قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
اور جو شخص بیٹھ کر عید کی نماز کا انتظار کر رہا ہو، اس کے لیے مشروع (پسندیدہ) یہ ہے کہ وہ کثرت سے تہلیل اور تکبیر (اللہ کی بڑائی اور وحدانیت کا ذکر) کرے؛ کیونکہ یہ اس دن کا شعار ہے اور مسجد و مسجد سے باہر سب کے لیے یہی سنت ہے یہاں تک کہ خطبہ ختم ہو جائے۔ اور اگر کوئی قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ ولی التوفیق۔
واللہ ولی التوفیق۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(ماخوذ از: المجلة العربية، مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 13/ 13)
(ماخوذ از: المجلة العربية، مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 13/ 13)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
________________________
________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ⬇️
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سائل کا سوال:
سائل کا سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز میں کچھ لوگ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوتے ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم اس بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔"
"عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز میں کچھ لوگ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوتے ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم اس بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح الفوزان کا جواب:
شیخ صالح الفوزان کا جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* عید گاہ (کھلے میدان) میں نماز کی صورت میں:
* عید گاہ (کھلے میدان) میں نماز کی صورت میں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اگر عید کی نماز کسی صحرا یا شہر سے باہر اس مقصد کے لیے تیار کردہ مصلیٰ (عید گاہ) میں پڑھی جا رہی ہو، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (نفل) نماز مشروع نہیں ہے۔ جو بھی شخص وہاں آئے، اسے (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، بلکہ آپ ﷺ نے صرف عید کی نماز پر ہی اکتفا فرمایا۔
اگر عید کی نماز کسی صحرا یا شہر سے باہر اس مقصد کے لیے تیار کردہ مصلیٰ (عید گاہ) میں پڑھی جا رہی ہو، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (نفل) نماز مشروع نہیں ہے۔ جو بھی شخص وہاں آئے، اسے (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، بلکہ آپ ﷺ نے صرف عید کی نماز پر ہی اکتفا فرمایا۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* مسجد میں نماز کی صورت میں:
* مسجد میں نماز کی صورت میں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
لیکن اگر عید یا استسقاء کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، تو یہ علماء کے درمیان غور و فکر کا مقام ہے۔
لیکن اگر عید یا استسقاء کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، تو یہ علماء کے درمیان غور و فکر کا مقام ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* پہلا نقطہ نظر (تحیۃ المسجد): جو علماء مسجد کے عمومی حکم اور نبی ﷺ کے اس فرمان کو دیکھتے ہیں کہ: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے"، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے؛ چاہے کوئی عید کی نماز کے لیے داخل ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنی چاہیے۔
* پہلا نقطہ نظر (تحیۃ المسجد): جو علماء مسجد کے عمومی حکم اور نبی ﷺ کے اس فرمان کو دیکھتے ہیں کہ: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے"، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے؛ چاہے کوئی عید کی نماز کے لیے داخل ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دوسرا نقطہ نظر (عید کی نماز کا حکم): اور جو علماء عید کی نماز کے مخصوص حکم کو دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، وہ کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھ جانا چاہیے اور نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
* دوسرا نقطہ نظر (عید کی نماز کا حکم): اور جو علماء عید کی نماز کے مخصوص حکم کو دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، وہ کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھ جانا چاہیے اور نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ:
خلاصہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر تحیۃ المسجد پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی عید کی نماز کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے (نماز پڑھے بغیر) بیٹھ جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر تحیۃ المسجد پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی عید کی نماز کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے (نماز پڑھے بغیر) بیٹھ جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
_________________________
_________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح العثيمين رحمه الله. ⬇️
شیخ صالح العثيمين رحمه الله. ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ کے فتاویٰ میں آیا ہے:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ کے فتاویٰ میں آیا ہے:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ عثیمین سے سوال کیا گیا: کیا عید گاہ کو مسجد شمار کیا جائے گا اور کیا اس کے لیے تحیۃ المسجد سنت ہے؟ اور کیا تحیۃ المسجد کے علاوہ بھی نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟
شیخ عثیمین سے سوال کیا گیا: کیا عید گاہ کو مسجد شمار کیا جائے گا اور کیا اس کے لیے تحیۃ المسجد سنت ہے؟ اور کیا تحیۃ المسجد کے علاوہ بھی نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صاحب نے جواب دیا: "جی ہاں، عید گاہ مسجد ہی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حائضہ خواتین کو وہاں ٹھہرنے سے منع فرمایا اور انہیں وہاں سے الگ رہنے کا حکم دیا۔ اس بنا پر، جب کوئی شخص وہاں داخل ہو تو دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور نفل نہ پڑھے، نہ عید کی نماز سے پہلے اور نہ اس کے بعد؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھی، البتہ تحیۃ المسجد کا ایک خاص سبب (مسجد میں داخلہ) ہوتا ہے۔" (انتہیٰ)
شیخ صاحب نے جواب دیا: "جی ہاں، عید گاہ مسجد ہی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حائضہ خواتین کو وہاں ٹھہرنے سے منع فرمایا اور انہیں وہاں سے الگ رہنے کا حکم دیا۔ اس بنا پر، جب کوئی شخص وہاں داخل ہو تو دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور نفل نہ پڑھے، نہ عید کی نماز سے پہلے اور نہ اس کے بعد؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھی، البتہ تحیۃ المسجد کا ایک خاص سبب (مسجد میں داخلہ) ہوتا ہے۔" (انتہیٰ)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ أعلم
واللہ أعلم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس مسئلے کا خلاصہ ۔
اس مسئلے کا خلاصہ ۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
١- شیخ بن باز اور شیخ صالح الفوزان اور دیگر بہت سے اہل علم کے نزدیک یہی راجح قول ہے کہ عید کی نماز اگر صحراء یا میدانوں /عیدگاہ میں ہو تو پھر اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
١- شیخ بن باز اور شیخ صالح الفوزان اور دیگر بہت سے اہل علم کے نزدیک یہی راجح قول ہے کہ عید کی نماز اگر صحراء یا میدانوں /عیدگاہ میں ہو تو پھر اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
٢- جبکہ شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے عید کی نماز سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنے کو کہا اگرچہ وہ صحراء یا میدانوں/عیدگاہ میں پڑھی جائے۔
٢- جبکہ شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے عید کی نماز سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنے کو کہا اگرچہ وہ صحراء یا میدانوں/عیدگاہ میں پڑھی جائے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
٣- اس مسئلے میں راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر عید کی نماز میدانوں/عیدگاہ اور صحراؤں میں پڑھی جائے تو ایسی صورت میں نہ تو عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے گی اور نہ عید کی نماز کے بعد۔
٣- اس مسئلے میں راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر عید کی نماز میدانوں/عیدگاہ اور صحراؤں میں پڑھی جائے تو ایسی صورت میں نہ تو عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے گی اور نہ عید کی نماز کے بعد۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اور اگر عید کی نماز مسجد میں ہو تو ایسی صورت میں تحیۃ المسجد جو کہ مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے اس حدیث کے عموم کے لحاظ سے تحیۃ المسجد اس وقت پڑھی جائے گی۔
اور اگر عید کی نماز مسجد میں ہو تو ایسی صورت میں تحیۃ المسجد جو کہ مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے اس حدیث کے عموم کے لحاظ سے تحیۃ المسجد اس وقت پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اللہ اعلم‌۔
اللہ اعلم‌۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨تقبل الله منا ومنكم ✨
✨تقبل الله منا ومنكم ✨
تين سالہ عالمہ کورس
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
1️⃣ رسول اللہ ﷺ صدقہ فطر (عید کی) نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [📚 صحیح بخاری: 1509]
1️⃣ رسول اللہ ﷺ صدقہ فطر (عید کی) نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [📚 صحیح بخاری: 1509]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
2️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر (گھر سے) عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ [📚 ابن ماجہ: 1754]
2️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر (گھر سے) عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔ [📚 ابن ماجہ: 1754]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
3️⃣ رسول اللہ ﷺ طاق عدد (1، 3، 5، 7) کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ [📚 مسند احمد: 2838]
3️⃣ رسول اللہ ﷺ طاق عدد (1، 3، 5، 7) کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ [📚 مسند احمد: 2838]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
4️⃣ رسول اللہ ﷺ عید (کی نماز) کے لیے (عید گاہ) پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔ [📚 ابن ماجہ: 1294]
4️⃣ رسول اللہ ﷺ عید (کی نماز) کے لیے (عید گاہ) پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔ [📚 ابن ماجہ: 1294]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
5️⃣ جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (عید گاہ) جاتے اور واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لیا کرتے تھے۔ [📚 مشکاۃ: 1434]
5️⃣ جب عید کا دن ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (عید گاہ) جاتے اور واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لیا کرتے تھے۔ [📚 مشکاۃ: 1434]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
6️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلتے تو تکبیر کہتے ہوئے عید گاہ پہنچتے، یہاں تک کہ جب عید کی نماز مکمل کر لیتے تو تکبیر کہنا ختم کر دیتے۔ [📚 السلسلۃ الصحیحۃ: 570]
6️⃣ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلتے تو تکبیر کہتے ہوئے عید گاہ پہنچتے، یہاں تک کہ جب عید کی نماز مکمل کر لیتے تو تکبیر کہنا ختم کر دیتے۔ [📚 السلسلۃ الصحیحۃ: 570]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[الفاظِ تکبیر] اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد.
[الفاظِ تکبیر] اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
7️⃣ عید کے دن غسل کرنا، عمدہ لباس پہننا اور ایک دوسرے سے یہ کلمات کہنا: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
7️⃣ عید کے دن غسل کرنا، عمدہ لباس پہننا اور ایک دوسرے سے یہ کلمات کہنا: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ نمازِ عید کا طریقہ اور مختصر مسائل
✨ نمازِ عید کا طریقہ اور مختصر مسائل
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
رکعات کی تعداد: 2
رکعات کی تعداد: 2
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
طریقہ (پہلی رکعت):
طریقہ (پہلی رکعت):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہیں۔
* سب سے پہلے تکبیرِ تحریمہ کہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دعائے استفتاح (ثنا) پڑھیں۔
* دعائے استفتاح (ثنا) پڑھیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* 7 تکبیرات کہیں [جس طرح رفع الیدین کرتے ہوئے عام تکبیر کہی جاتی ہے، اسی طرح یہ تکبیرات بھی کہنی ہیں]۔
* 7 تکبیرات کہیں [جس طرح رفع الیدین کرتے ہوئے عام تکبیر کہی جاتی ہے، اسی طرح یہ تکبیرات بھی کہنی ہیں]۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کریں۔
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* رکوع اور سجود مکمل کریں۔ (پہلی رکعت مکمل ہوئی)۔
* رکوع اور سجود مکمل کریں۔ (پہلی رکعت مکمل ہوئی)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
طریقہ (دوسری رکعت):
طریقہ (دوسری رکعت):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دوسری رکعت کی تکبیر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
* دوسری رکعت کی تکبیر کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* 5 تکبیرات کہیں [رفع الیدین کے ساتھ]۔
* 5 تکبیرات کہیں [رفع الیدین کے ساتھ]۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کریں۔
* سورۃ الفاتحہ + سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* رکوع اور سجود کریں۔
* رکوع اور سجود کریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* تشہد اور سلام پھیریں۔
* تشہد اور سلام پھیریں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[حدیث]: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحٰی میں پہلی رکعت میں 7 تکبیریں اور دوسری رکعت میں 5 تکبیرات کہا کرتے تھے۔
[حدیث]: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحٰی میں پہلی رکعت میں 7 تکبیریں اور دوسری رکعت میں 5 تکبیرات کہا کرتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[📚 ابو داؤد: 1149 - صحیح]
[📚 ابو داؤد: 1149 - صحیح]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عید کی نماز کا وقت
✨ عید کی نماز کا وقت
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں: "عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے، مگر سنت ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز جلدی پڑھی جائے اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق مروی ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عید الفطر کی نماز سورج کے دو نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔"
ابن عثیمینؒ فرماتے ہیں: "عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے، مگر سنت ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز جلدی پڑھی جائے اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق مروی ہے کہ عید الاضحٰی کی نماز سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عید الفطر کی نماز سورج کے دو نیزہ بلند ہونے کے بعد پڑھتے تھے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
[📚 مجموع الفتاویٰ: 16/229]
[📚 مجموع الفتاویٰ: 16/229]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ مردوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
✨ مردوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* ابن عثیمینؒ: "عید کی نماز مردوں کے لیے فرضِ عین ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/214]
* ابن عثیمینؒ: "عید کی نماز مردوں کے لیے فرضِ عین ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/214]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ بن بازؒ: "اکثر اہلِ علم کے نزدیک عید کی نماز فرضِ کفایہ ہے، جبکہ بعض اہلِ علم فرضِ عین کے قائل ہیں اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح (درست) ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
* شیخ بن بازؒ: "اکثر اہلِ علم کے نزدیک عید کی نماز فرضِ کفایہ ہے، جبکہ بعض اہلِ علم فرضِ عین کے قائل ہیں اور دلائل کی روشنی میں یہی قول راجح (درست) ہے۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عورتوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
✨ عورتوں کے لیے عید کی نماز کا حکم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ بن بازؒ: "خواتین کا عید کی نماز کے لیے جانا سنت ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائیں، نہ کہ خوشبو وغیرہ لگا کر۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
* شیخ بن بازؒ: "خواتین کا عید کی نماز کے لیے جانا سنت ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائیں، نہ کہ خوشبو وغیرہ لگا کر۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 13/7]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* اللجنۃ الدائمۃ: "عید کی نماز کے لیے عورتوں کا جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار کے بغیر جائیں۔" [📚 اللجنۃ الدائمۃ: 8/287]
* اللجنۃ الدائمۃ: "عید کی نماز کے لیے عورتوں کا جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار کے بغیر جائیں۔" [📚 اللجنۃ الدائمۃ: 8/287]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* ابن عثیمینؒ: "میرے خیال سے عورتوں کو عید گاہ جانے کا حکم دینا چاہیے تاکہ وہ خیر کا مشاہدہ کریں، نیز نماز اور دعاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو سکیں، بشرطیکہ باپردہ نکلیں اور خوشبو وغیرہ بالکل نہ لگائیں۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/211]
* ابن عثیمینؒ: "میرے خیال سے عورتوں کو عید گاہ جانے کا حکم دینا چاہیے تاکہ وہ خیر کا مشاہدہ کریں، نیز نماز اور دعاؤں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو سکیں، بشرطیکہ باپردہ نکلیں اور خوشبو وغیرہ بالکل نہ لگائیں۔" [📚 مجموع الفتاویٰ: 16/211]
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨عورت کا عیدگاہ جانا افضل ہے.
✨عورت کا عیدگاہ جانا افضل ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال: کیا عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا بہتر ہے یا اپنے گھر میں رہنا؟
سوال: کیا عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا بہتر ہے یا اپنے گھر میں رہنا؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ جواب:
خلاصہ جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا افضل ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ جوان لڑکیوں اور پردہ نشینوں کو بھی۔ لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، نہ زینت ظاہر کریں اور نہ خوشبو لگائیں؛ تاکہ وہ سنت پر عمل اور فتنے سے بچنے کے عمل کو یکجا کر سکیں۔
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے باہر نکلنا افضل ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ جوان لڑکیوں اور پردہ نشینوں کو بھی۔ لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، نہ زینت ظاہر کریں اور نہ خوشبو لگائیں؛ تاکہ وہ سنت پر عمل اور فتنے سے بچنے کے عمل کو یکجا کر سکیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب:
جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر، حمد و ثنا کے بعد:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو رسول اللہ ﷺ پر، حمد و ثنا کے بعد:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے (عید گاہ) نکلنا افضل ہے، اور اسی کا حکم نبی کریم ﷺ نے اسے دیا ہے۔
عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے (عید گاہ) نکلنا افضل ہے، اور اسی کا حکم نبی کریم ﷺ نے اسے دیا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
امام بخاری ﴿٣٢٤﴾ اور امام مسلم ﴿٨٩٠﴾ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں:
امام بخاری ﴿٣٢٤﴾ اور امام مسلم ﴿٨٩٠﴾ نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
> "رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں جوان لڑکیوں، حائضہ عورتوں اور پردہ نشین دوشیزاؤں کو باہر نکالیں۔ البتہ حائضہ خواتین نماز سے الگ رہیں گی اور خیر (بھلائی) و مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں گی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر (جلباب) نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔"
> "رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحی میں جوان لڑکیوں، حائضہ عورتوں اور پردہ نشین دوشیزاؤں کو باہر نکالیں۔ البتہ حائضہ خواتین نماز سے الگ رہیں گی اور خیر (بھلائی) و مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں گی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر (جلباب) نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* (العواتق): عاتق کی جمع، وہ لڑکی جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو یا اس کے قریب ہو، یا شادی کے لائق ہو گئی ہو۔
* (العواتق): عاتق کی جمع، وہ لڑکی جو بلوغت کو پہنچ گئی ہو یا اس کے قریب ہو، یا شادی کے لائق ہو گئی ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* (ذوات الخدور): کنواری لڑکیاں۔
* (ذوات الخدور): کنواری لڑکیاں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں عورتوں کے لیے عیدین میں حاضر ہونے کے استحباب کا ثبوت ہے، چاہے وہ جوان ہوں یا نہ ہوں، اور چاہے وہ باحیثیت (صاحبِ حسن) ہوں یا نہ ہوں۔"
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: "اس حدیث میں عورتوں کے لیے عیدین میں حاضر ہونے کے استحباب کا ثبوت ہے، چاہے وہ جوان ہوں یا نہ ہوں، اور چاہے وہ باحیثیت (صاحبِ حسن) ہوں یا نہ ہوں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث عیدین میں عورتوں کے عید گاہ نکلنے کی مشروعیت پر فیصلہ کن ہیں، اس میں کنواری، شادی شدہ، جوان، بوڑھی، حائضہ اور دیگر عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، جب تک کہ وہ عدت میں نہ ہو، یا اس کا نکلنا فتنے کا باعث نہ ہو، یا اسے کوئی (شرعی) عذر نہ ہو۔"
امام شوکانیؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اور اس معنی کی دیگر احادیث عیدین میں عورتوں کے عید گاہ نکلنے کی مشروعیت پر فیصلہ کن ہیں، اس میں کنواری، شادی شدہ، جوان، بوڑھی، حائضہ اور دیگر عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، جب تک کہ وہ عدت میں نہ ہو، یا اس کا نکلنا فتنے کا باعث نہ ہو، یا اسے کوئی (شرعی) عذر نہ ہو۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عورت کے لیے کیا افضل ہے، عید کی نماز کے لیے نکلنا یا گھر میں رہنا؟
عورت کے لیے کیا افضل ہے، عید کی نماز کے لیے نکلنا یا گھر میں رہنا؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ نے جواب دیا:
آپ نے جواب دیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"افضل یہی ہے کہ وہ عید کے لیے نکلے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ 'عواتق' اور 'ذوات الخدور' کو بھی—یعنی وہ خواتین بھی جن کی عادت باہر نکلنے کی نہیں ہوتی—انہیں بھی نکلنے کا حکم دیا۔ سوائے حائضہ خواتین کے، جنہیں نکلنے کا تو حکم دیا گیا لیکن مصلّٰی (عید گاہ) سے الگ رہنے کا کہا گیا۔ حائضہ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ عید کی نماز کے لیے نکلے گی، لیکن عید گاہ میں داخل نہیں ہوگی؛ کیونکہ عید گاہ مسجد کے حکم میں ہے، اور حائضہ کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں، البتہ وہاں سے گزرنا یا کوئی چیز پکڑنا جائز ہے۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں: عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے، مردوں کے ساتھ شریک ہونے اور وہاں حاصل ہونے والی خیر، ذکر اور دعا میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔"
"افضل یہی ہے کہ وہ عید کے لیے نکلے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ 'عواتق' اور 'ذوات الخدور' کو بھی—یعنی وہ خواتین بھی جن کی عادت باہر نکلنے کی نہیں ہوتی—انہیں بھی نکلنے کا حکم دیا۔ سوائے حائضہ خواتین کے، جنہیں نکلنے کا تو حکم دیا گیا لیکن مصلّٰی (عید گاہ) سے الگ رہنے کا کہا گیا۔ حائضہ عورت دوسری عورتوں کے ساتھ عید کی نماز کے لیے نکلے گی، لیکن عید گاہ میں داخل نہیں ہوگی؛ کیونکہ عید گاہ مسجد کے حکم میں ہے، اور حائضہ کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں، البتہ وہاں سے گزرنا یا کوئی چیز پکڑنا جائز ہے۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں: عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے، مردوں کے ساتھ شریک ہونے اور وہاں حاصل ہونے والی خیر، ذکر اور دعا میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(مجموع فتاویٰ شیخ ابن عثیمین: 16/210)
(مجموع فتاویٰ شیخ ابن عثیمین: 16/210)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ نے یہ بھی فرمایا:
آپ نے یہ بھی فرمایا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، بناؤ سنگھار اور خوشبو کے بغیر، تاکہ وہ سنت پر عمل کرنے اور فتنے سے بچنے کو جمع کر سکیں۔ اور بعض عورتوں کی طرف سے جو تبرج (نمود و نمائش) اور خوشبو کا استعمال ہوتا ہے، وہ ان کی جہالت اور ان کے سرپرستوں کی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ یہ چیز اس عمومی شرعی حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی، جو کہ عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم ہے۔"
"لیکن ان پر واجب ہے کہ وہ سادہ حالت میں نکلیں، بناؤ سنگھار اور خوشبو کے بغیر، تاکہ وہ سنت پر عمل کرنے اور فتنے سے بچنے کو جمع کر سکیں۔ اور بعض عورتوں کی طرف سے جو تبرج (نمود و نمائش) اور خوشبو کا استعمال ہوتا ہے، وہ ان کی جہالت اور ان کے سرپرستوں کی کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ یہ چیز اس عمومی شرعی حکم میں رکاوٹ نہیں بنتی، جو کہ عورتوں کو عید کی نماز کے لیے نکلنے کا حکم ہے۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ اعلم
واللہ اعلم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨ عورت کا گھر میں اکیلے یا باجماعت نماز پڑنے کا حکم.
✨ عورت کا گھر میں اکیلے یا باجماعت نماز پڑنے کا حکم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح العثيمين رحمه الله ⬇️
شیخ صالح العثيمين رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال:
سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
عراق کے صوبہ بصرہ سے ایک طالبہ (س۔ ع) پوچھتی ہیں: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھے؟
عراق کے صوبہ بصرہ سے ایک طالبہ (س۔ ع) پوچھتی ہیں: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ عید کی نماز اپنے گھر میں پڑھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب (شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ):
جواب (شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خواتین کے حق میں مشروع (پسندیدہ) یہی ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ عید گاہ میں نمازِ عید ادا کریں؛ کیونکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ:
خواتین کے حق میں مشروع (پسندیدہ) یہی ہے کہ وہ مردوں کے ساتھ عید گاہ میں نمازِ عید ادا کریں؛ کیونکہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
> "نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ عورتیں (عید کے لیے) نکلیں، یہاں تک کہ حیض والی خواتین اور پردہ نشین دوشیزائیں بھی باہر آئیں، تاکہ وہ خیر (بھلائی) اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی خواتین نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے علیحدہ رہیں۔"
> "نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ عورتیں (عید کے لیے) نکلیں، یہاں تک کہ حیض والی خواتین اور پردہ نشین دوشیزائیں بھی باہر آئیں، تاکہ وہ خیر (بھلائی) اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی خواتین نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے علیحدہ رہیں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
چنانچہ سنت یہی ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلیں۔ رہا عورتوں کا گھروں میں نماز (عید) پڑھنا، تو میرے علم میں اس بارے میں کوئی سنت نہیں ہے۔ واللہ اعلم.
چنانچہ سنت یہی ہے کہ عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ کی طرف نکلیں۔ رہا عورتوں کا گھروں میں نماز (عید) پڑھنا، تو میرے علم میں اس بارے میں کوئی سنت نہیں ہے۔ واللہ اعلم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ عورتوں کی نمازِ عید کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے پاس خواتین کے لیے کوئی علیحدہ عید گاہ (مصلّٰی) نہیں ہے، تو کیا میں عورتوں کو اپنے گھر میں جمع کر کے انہیں نمازِ عید پڑھا سکتی ہوں؟ یاد رہے کہ میرا گھر پردے والا ہے اور مردوں سے دور ہے۔
ایک خاتون دریافت کرتی ہیں کہ عورتوں کی نمازِ عید کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہمارے پاس خواتین کے لیے کوئی علیحدہ عید گاہ (مصلّٰی) نہیں ہے، تو کیا میں عورتوں کو اپنے گھر میں جمع کر کے انہیں نمازِ عید پڑھا سکتی ہوں؟ یاد رہے کہ میرا گھر پردے والا ہے اور مردوں سے دور ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب:
جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل "بدعت" ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ باجماعت ہوتی ہے۔ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عید گاہ جائے تاکہ مردوں کے ساتھ (ان کے پیچھے) نماز پڑھے، بشرطیکہ وہ مردوں سے دور رہے اور اختلاط (میل جول) نہ ہو۔
اس کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل "بدعت" ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں کے ساتھ باجماعت ہوتی ہے۔ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عید گاہ جائے تاکہ مردوں کے ساتھ (ان کے پیچھے) نماز پڑھے، بشرطیکہ وہ مردوں سے دور رہے اور اختلاط (میل جول) نہ ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
رہا عورتوں کا اپنے گھر میں نمازِ عید قائم کرنا، تو یہ ایک بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ عورتوں نے گھروں میں نمازِ عید قائم کی ہو۔
رہا عورتوں کا اپنے گھر میں نمازِ عید قائم کرنا، تو یہ ایک بڑی غلطی ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہے کہ عورتوں نے گھروں میں نمازِ عید قائم کی ہو۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(ماخوذ از: فتاویٰ نور علی الدرب، جلد 8، صفحہ 189)
(ماخوذ از: فتاویٰ نور علی الدرب، جلد 8، صفحہ 189)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
_________________________
_________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال:
سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
گزشتہ سالوں میں ہمارے ہاں دیہات کی خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے مکمل طریقے سے عیدین کی نماز قائم کی، اور ایک دین کی سمجھ رکھنے والی خاتون ان کی امامت کر رہی تھیں۔ ان کے جمع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ مردوں کی عید گاہ پیدل دو گھنٹے کی مسافت پر تھی اور مرد انہیں وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔ سائل اس موضوع کی تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں پوچھتے ہیں کہ: ان خواتین کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
گزشتہ سالوں میں ہمارے ہاں دیہات کی خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے مکمل طریقے سے عیدین کی نماز قائم کی، اور ایک دین کی سمجھ رکھنے والی خاتون ان کی امامت کر رہی تھیں۔ ان کے جمع ہونے کی وجہ یہ تھی کہ مردوں کی عید گاہ پیدل دو گھنٹے کی مسافت پر تھی اور مرد انہیں وہاں جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔ سائل اس موضوع کی تفصیل بتاتے ہوئے آخر میں پوچھتے ہیں کہ: ان خواتین کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ بدعت میں شمار ہوگا؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب (سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله):
جواب (سماحة الشيخ ابن باز رحمه الله):
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
میرے علم میں اس میں کوئی حرج (ممانعت) نہیں ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مشروع (ثابت) ہے، اور سنت یہ ہے کہ اس کے لیے کھلے میدان میں جایا جائے۔
میرے علم میں اس میں کوئی حرج (ممانعت) نہیں ہے؛ کیونکہ عید کی نماز مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مشروع (ثابت) ہے، اور سنت یہ ہے کہ اس کے لیے کھلے میدان میں جایا جائے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
پس اگر عورتوں کے لیے باہر نکلنا ممکن نہ ہو کہ وہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکیں، اور وہ اپنے گھروں میں اکیلے یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انہیں اس پر بڑا اجر ملے گا۔ جی ہاں۔
پس اگر عورتوں کے لیے باہر نکلنا ممکن نہ ہو کہ وہ مردوں کے ساتھ نماز پڑھ سکیں، اور وہ اپنے گھروں میں اکیلے یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور انہیں اس پر بڑا اجر ملے گا۔ جی ہاں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ:
خلاصہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* شیخ ابن بازؒ کے مطابق اگر عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ نہ جا سکیں، تو وہ گھر میں اکیلے یا باجماعت نمازِ عید ادا کر سکتی ہیں۔
* شیخ ابن بازؒ کے مطابق اگر عورتیں مردوں کے ساتھ عید گاہ نہ جا سکیں، تو وہ گھر میں اکیلے یا باجماعت نمازِ عید ادا کر سکتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
____________________________
____________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
دونوں اہل علم کے فتاوى کا خلاصہ.
دونوں اہل علم کے فتاوى کا خلاصہ.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۱- عورت کے لیے اصل عیدگاہ جانا ہی ہے.
۱- عورت کے لیے اصل عیدگاہ جانا ہی ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۲- کسی بہت عذر کی صورت یا خواتين کا عیدگاہ میں انتظام نہ ہونے کی صورت میں اگر کوئی گھر میں پڑتی ہے تو شیخ بن باز کے نزدیک جائز ہے.
۲- کسی بہت عذر کی صورت یا خواتين کا عیدگاہ میں انتظام نہ ہونے کی صورت میں اگر کوئی گھر میں پڑتی ہے تو شیخ بن باز کے نزدیک جائز ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
۳-اس اختلاف سے بچنے کی اور سنت کے قریب ہونے کی سب سے بہترین صورت یہی ہے کہ خواتين عید کی نماز کے لیے عیدگاہ جائیں جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حديث سے واضح ہے.
۳-اس اختلاف سے بچنے کی اور سنت کے قریب ہونے کی سب سے بہترین صورت یہی ہے کہ خواتين عید کی نماز کے لیے عیدگاہ جائیں جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حديث سے واضح ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
📌خواتین کو اہم نصیحت.
📌خواتین کو اہم نصیحت.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
تمام خواتین اپنی طرف سے پوری کوشش کریں عید کی نماز عیدگاہ میں جا کر ادا کرنے کی.
تمام خواتین اپنی طرف سے پوری کوشش کریں عید کی نماز عیدگاہ میں جا کر ادا کرنے کی.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
ایسا نہ کیا جاۓ کہ آپ اپنے دوسرے کاموں میں خود کو اس قدر الجھا لیں کہ عید کے نماز کے وقت کے مطابق اپنے کام ہی نہ مکمل کر پائیں اور نماز ہو جاۓ پھر آپ گھروں میں پڑنے کی آسانی ڈھونڈتی رہیں ایسا کرنا خلاف سنت ہے.
ایسا نہ کیا جاۓ کہ آپ اپنے دوسرے کاموں میں خود کو اس قدر الجھا لیں کہ عید کے نماز کے وقت کے مطابق اپنے کام ہی نہ مکمل کر پائیں اور نماز ہو جاۓ پھر آپ گھروں میں پڑنے کی آسانی ڈھونڈتی رہیں ایسا کرنا خلاف سنت ہے.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس لیے پہلے سے ہی خود کو تیار رکھیں اور عید کی نماز کو عیدگاہ جا کر مردوں کے پیچھے (پردے کے ساتھ بغیر اختلاط کے) ادا کریں.
اس لیے پہلے سے ہی خود کو تیار رکھیں اور عید کی نماز کو عیدگاہ جا کر مردوں کے پیچھے (پردے کے ساتھ بغیر اختلاط کے) ادا کریں.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨عید گاہ آنے والے کے لیے شرعی احکامات اور عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں دوسرے نوافل اور تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم.
✨عید گاہ آنے والے کے لیے شرعی احکامات اور عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں دوسرے نوافل اور تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم.
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
شیخ ابن باز رحمه الله ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال: سائل نے شیخ بن باز رحمه الله سے سوال کیا میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ جب عید کی نماز کے لیے آتے ہیں تو دو رکعت (نفل) پڑھتے ہیں اور بعض نہیں پڑھتے۔ کچھ لوگ نماز سے پہلے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور کچھ تکبیرات (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، وللہ الحمد) میں مصروف رہتے ہیں۔
سوال: سائل نے شیخ بن باز رحمه الله سے سوال کیا میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ جب عید کی نماز کے لیے آتے ہیں تو دو رکعت (نفل) پڑھتے ہیں اور بعض نہیں پڑھتے۔ کچھ لوگ نماز سے پہلے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور کچھ تکبیرات (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، وللہ الحمد) میں مصروف رہتے ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
آپ سے گزارش ہے کہ ان امور میں شرعی حکم واضح فرمائیں، اور کیا اس میں کوئی فرق ہے کہ نماز مسجد میں ہو رہی ہو یا عید گاہ (کھلے میدان) میں؟
آپ سے گزارش ہے کہ ان امور میں شرعی حکم واضح فرمائیں، اور کیا اس میں کوئی فرق ہے کہ نماز مسجد میں ہو رہی ہو یا عید گاہ (کھلے میدان) میں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
جواب: سنت طریقہ یہ ہے کہ جو شخص عید کی نماز یا نمازِ استسقاء کے لیے عید گاہ آئے، وہ (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جائے اور تحیۃ المسجد ادا نہ کرے؛ کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے، نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ سے ایسا کرنا منقول نہیں ہے۔
جواب: سنت طریقہ یہ ہے کہ جو شخص عید کی نماز یا نمازِ استسقاء کے لیے عید گاہ آئے، وہ (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جائے اور تحیۃ المسجد ادا نہ کرے؛ کیونکہ جہاں تک ہمیں علم ہے، نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ سے ایسا کرنا منقول نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
البتہ! اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو، تو وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عام ہے: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے" (اس کی صحت پر اتفاق ہے)۔
البتہ! اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو، تو وہ تحیۃ المسجد پڑھے گا؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان عام ہے: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے" (اس کی صحت پر اتفاق ہے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اور جو شخص بیٹھ کر عید کی نماز کا انتظار کر رہا ہو، اس کے لیے مشروع (پسندیدہ) یہ ہے کہ وہ کثرت سے تہلیل اور تکبیر (اللہ کی بڑائی اور وحدانیت کا ذکر) کرے؛ کیونکہ یہ اس دن کا شعار ہے اور مسجد و مسجد سے باہر سب کے لیے یہی سنت ہے یہاں تک کہ خطبہ ختم ہو جائے۔ اور اگر کوئی قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
اور جو شخص بیٹھ کر عید کی نماز کا انتظار کر رہا ہو، اس کے لیے مشروع (پسندیدہ) یہ ہے کہ وہ کثرت سے تہلیل اور تکبیر (اللہ کی بڑائی اور وحدانیت کا ذکر) کرے؛ کیونکہ یہ اس دن کا شعار ہے اور مسجد و مسجد سے باہر سب کے لیے یہی سنت ہے یہاں تک کہ خطبہ ختم ہو جائے۔ اور اگر کوئی قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ ولی التوفیق۔
واللہ ولی التوفیق۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
(ماخوذ از: المجلة العربية، مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 13/ 13)
(ماخوذ از: المجلة العربية، مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 13/ 13)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
________________________
________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ⬇️
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سائل کا سوال:
سائل کا سوال:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
"عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز میں کچھ لوگ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوتے ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم اس بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔"
"عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز میں کچھ لوگ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوتے ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ ہم اس بارے میں وضاحت چاہتے ہیں۔"
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح الفوزان کا جواب:
شیخ صالح الفوزان کا جواب:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* عید گاہ (کھلے میدان) میں نماز کی صورت میں:
* عید گاہ (کھلے میدان) میں نماز کی صورت میں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اگر عید کی نماز کسی صحرا یا شہر سے باہر اس مقصد کے لیے تیار کردہ مصلیٰ (عید گاہ) میں پڑھی جا رہی ہو، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (نفل) نماز مشروع نہیں ہے۔ جو بھی شخص وہاں آئے، اسے (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، بلکہ آپ ﷺ نے صرف عید کی نماز پر ہی اکتفا فرمایا۔
اگر عید کی نماز کسی صحرا یا شہر سے باہر اس مقصد کے لیے تیار کردہ مصلیٰ (عید گاہ) میں پڑھی جا رہی ہو، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی (نفل) نماز مشروع نہیں ہے۔ جو بھی شخص وہاں آئے، اسے (بغیر نماز پڑھے) بیٹھ جانا چاہیے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے، بلکہ آپ ﷺ نے صرف عید کی نماز پر ہی اکتفا فرمایا۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* مسجد میں نماز کی صورت میں:
* مسجد میں نماز کی صورت میں:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
لیکن اگر عید یا استسقاء کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، تو یہ علماء کے درمیان غور و فکر کا مقام ہے۔
لیکن اگر عید یا استسقاء کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو، تو یہ علماء کے درمیان غور و فکر کا مقام ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* پہلا نقطہ نظر (تحیۃ المسجد): جو علماء مسجد کے عمومی حکم اور نبی ﷺ کے اس فرمان کو دیکھتے ہیں کہ: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے"، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے؛ چاہے کوئی عید کی نماز کے لیے داخل ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنی چاہیے۔
* پہلا نقطہ نظر (تحیۃ المسجد): جو علماء مسجد کے عمومی حکم اور نبی ﷺ کے اس فرمان کو دیکھتے ہیں کہ: "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے"، وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث عام ہے؛ چاہے کوئی عید کی نماز کے لیے داخل ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
* دوسرا نقطہ نظر (عید کی نماز کا حکم): اور جو علماء عید کی نماز کے مخصوص حکم کو دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، وہ کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھ جانا چاہیے اور نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
* دوسرا نقطہ نظر (عید کی نماز کا حکم): اور جو علماء عید کی نماز کے مخصوص حکم کو دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی، وہ کہتے ہیں کہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد بیٹھ جانا چاہیے اور نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
خلاصہ:
خلاصہ:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر تحیۃ المسجد پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی عید کی نماز کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے (نماز پڑھے بغیر) بیٹھ جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں وسعت ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر تحیۃ المسجد پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور اگر کوئی عید کی نماز کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے (نماز پڑھے بغیر) بیٹھ جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
_________________________
_________________________
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صالح العثيمين رحمه الله. ⬇️
شیخ صالح العثيمين رحمه الله. ⬇️
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ کے فتاویٰ میں آیا ہے:
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ کے فتاویٰ میں آیا ہے:
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ عثیمین سے سوال کیا گیا: کیا عید گاہ کو مسجد شمار کیا جائے گا اور کیا اس کے لیے تحیۃ المسجد سنت ہے؟ اور کیا تحیۃ المسجد کے علاوہ بھی نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟
شیخ عثیمین سے سوال کیا گیا: کیا عید گاہ کو مسجد شمار کیا جائے گا اور کیا اس کے لیے تحیۃ المسجد سنت ہے؟ اور کیا تحیۃ المسجد کے علاوہ بھی نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
شیخ صاحب نے جواب دیا: "جی ہاں، عید گاہ مسجد ہی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حائضہ خواتین کو وہاں ٹھہرنے سے منع فرمایا اور انہیں وہاں سے الگ رہنے کا حکم دیا۔ اس بنا پر، جب کوئی شخص وہاں داخل ہو تو دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور نفل نہ پڑھے، نہ عید کی نماز سے پہلے اور نہ اس کے بعد؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھی، البتہ تحیۃ المسجد کا ایک خاص سبب (مسجد میں داخلہ) ہوتا ہے۔" (انتہیٰ)
شیخ صاحب نے جواب دیا: "جی ہاں، عید گاہ مسجد ہی ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے حائضہ خواتین کو وہاں ٹھہرنے سے منع فرمایا اور انہیں وہاں سے الگ رہنے کا حکم دیا۔ اس بنا پر، جب کوئی شخص وہاں داخل ہو تو دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔ لیکن اس کے علاوہ کوئی اور نفل نہ پڑھے، نہ عید کی نماز سے پہلے اور نہ اس کے بعد؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھی، البتہ تحیۃ المسجد کا ایک خاص سبب (مسجد میں داخلہ) ہوتا ہے۔" (انتہیٰ)
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
واللہ أعلم
واللہ أعلم
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اس مسئلے کا خلاصہ ۔
اس مسئلے کا خلاصہ ۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
١- شیخ بن باز اور شیخ صالح الفوزان اور دیگر بہت سے اہل علم کے نزدیک یہی راجح قول ہے کہ عید کی نماز اگر صحراء یا میدانوں /عیدگاہ میں ہو تو پھر اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
١- شیخ بن باز اور شیخ صالح الفوزان اور دیگر بہت سے اہل علم کے نزدیک یہی راجح قول ہے کہ عید کی نماز اگر صحراء یا میدانوں /عیدگاہ میں ہو تو پھر اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
٢- جبکہ شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے عید کی نماز سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنے کو کہا اگرچہ وہ صحراء یا میدانوں/عیدگاہ میں پڑھی جائے۔
٢- جبکہ شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے عید کی نماز سے پہلے تحیۃ المسجد پڑھنے کو کہا اگرچہ وہ صحراء یا میدانوں/عیدگاہ میں پڑھی جائے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
٣- اس مسئلے میں راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر عید کی نماز میدانوں/عیدگاہ اور صحراؤں میں پڑھی جائے تو ایسی صورت میں نہ تو عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے گی اور نہ عید کی نماز کے بعد۔
٣- اس مسئلے میں راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر عید کی نماز میدانوں/عیدگاہ اور صحراؤں میں پڑھی جائے تو ایسی صورت میں نہ تو عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے گی اور نہ عید کی نماز کے بعد۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اور اگر عید کی نماز مسجد میں ہو تو ایسی صورت میں تحیۃ المسجد جو کہ مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے اس حدیث کے عموم کے لحاظ سے تحیۃ المسجد اس وقت پڑھی جائے گی۔
اور اگر عید کی نماز مسجد میں ہو تو ایسی صورت میں تحیۃ المسجد جو کہ مسجد میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہے اس حدیث کے عموم کے لحاظ سے تحیۃ المسجد اس وقت پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
اللہ اعلم‌۔
اللہ اعلم‌۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
✨تقبل الله منا ومنكم ✨
✨تقبل الله منا ومنكم ✨
تين سالہ عالمہ کورس
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 1: عید الفطر کے دن صدقہ فطر کس وقت نکالنا چاہیے؟
جواب 1: رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق صدقہ فطر عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنا چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 2: عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے نبی کریم ﷺ کی کیا سنت تھی؟
جواب 2: آپ ﷺ چند کھجوریں کھائے بغیر گھر سے نہیں نکلتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 3: نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کھجوریں کس تعداد میں کھاتے تھے؟
جواب 3: آپ ﷺ طاق عدد (جیسے 1، 3، 5، 7) میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 4: عید گاہ جانے اور واپس آنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
جواب 4: عید کے لیے پیدل جانا اور پیدل ہی واپس آنا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 5: عید گاہ کے راستے کے حوالے سے کیا سنت منقول ہے؟
جواب 5: عید گاہ جاتے اور وہاں سے واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لینا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 6: عید الفطر کے دن تکبیرات کب سے کب تک کہنی چاہئیں؟
جواب 6: گھر سے نکلتے وقت تکبیر کہنا شروع کریں اور جب عید کی نماز مکمل کر لیں تو تکبیر کہنا ختم کر دیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 7: عید کی تکبیرات کے مسنون الفاظ کیا ہیں؟
جواب 7: اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 8: عید کے دن ایک دوسرے کو کس طرح دعا دینی چاہیے؟
جواب 8: ایک دوسرے کو یہ کلمات کہنے چاہئیں: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 9: عید کی نماز کی کل کتنی رکعات ہیں؟
جواب 9: عید کی نماز کی 2 رکعات ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 10: عید کی پہلی رکعت میں دعائے استفتاح (ثنا) کے بعد کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
جواب 10: پہلی رکعت میں 7 زائد تکبیرات (رفع الیدین کے ساتھ) کہی جاتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 11: عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت پڑھی جاتی ہے؟
جواب 11: سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 12: عید کی دوسری رکعت کے شروع میں قیام کی تکبیر کے علاوہ کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
جواب 12: دوسری رکعت میں 5 زائد تکبیرات (رفع الیدین کے ساتھ) کہی جاتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 13: عید کی دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت پڑھی جاتی ہے؟
جواب 13: سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 14: عید کی نماز کا مسنون وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب 14: سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 15: عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز کے وقت میں کیا فرق مستحب ہے؟
جواب 15: عید الاضحٰی کی نماز جلدی اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے پڑھنا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 16: مردوں کے لیے عید کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب 16: اہل علم کے راجح قول کے مطابق عید کی نماز فرضِ عین ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 17: کیا عورتوں کے لیے عید کی نماز پڑھنے کے لیے نکلنا سنت ہے؟
جواب 17: جی ہاں، عورتوں کے لیے عید گاہ جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار و خوشبو کے بغیر جائیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 18: حائضہ (ناپاکی کی حالت میں) خواتین کے حوالے سے عید گاہ جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب 18: وہ بھی عید گاہ جائیں گی لیکن نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے الگ رہیں گی اور مسلمانوں کی دعا و خیر میں شریک ہوں گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 19: اگر کسی عورت کے پاس پردے کے لیے چادر (جلباب) نہ ہو تو وہ کیا کرے؟
جواب 19: نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق اس کی کوئی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 20: عورت کے لیے عید کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے یا عید گاہ جا کر؟
جواب 20: عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے عید گاہ جانا افضل ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے اس کا واضح حکم دیا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 21: کیا خواتین کسی مجبوری کے تحت گھر میں اکیلے یا باجماعت عید کی نماز پڑھ سکتی ہیں؟
جواب 21: اصل سنت عید گاہ جانا ہے، البتہ شیخ بن بازؒ کے مطابق اگر شدید عذر ہو یا عید گاہ نہ جا سکیں تو گھر میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 22: کیا کھلے میدان (عید گاہ) میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز یا تحیۃ المسجد پڑھنا ثابت ہے؟
جواب 22: راجح قول کے مطابق اگر نماز کھلے میدان یا عید گاہ میں ہو تو اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل یا تحیۃ المسجد نہیں پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 23: اگر عید کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب 23: اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو تو حدیث کے عمومی حکم کے مطابق مسجد میں داخل ہونے کے سبب دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنا درست ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 24: عید گاہ یا مسجد میں عید کی نماز کا انتظار کرتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟
جواب 24: انتظار کے دوران کثرت سے تہلیل اور تکبیرات کا ورد کرنا چاہیے یا پھر قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 25: خواتین کو عید کی نماز کے حوالے سے کیا اہم نصیحت کی گئی ہے؟
جواب 25: خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے کاموں کو پہلے سے مکمل کر لیں اور گھروں میں پڑھنے کی آسانی ڈھونڈنے کے بجائے اپنی پوری کوشش کریں کہ عید کی نماز عید گاہ میں باپردہ ادا کریں۔
تين سالہ عالمہ کورس
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 1: عید الفطر کے دن صدقہ فطر کس وقت نکالنا چاہیے؟
جواب 1: رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق صدقہ فطر عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے نکالنا چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 2: عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے نبی کریم ﷺ کی کیا سنت تھی؟
جواب 2: آپ ﷺ چند کھجوریں کھائے بغیر گھر سے نہیں نکلتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 3: نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کھجوریں کس تعداد میں کھاتے تھے؟
جواب 3: آپ ﷺ طاق عدد (جیسے 1، 3، 5، 7) میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 4: عید گاہ جانے اور واپس آنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
جواب 4: عید کے لیے پیدل جانا اور پیدل ہی واپس آنا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 5: عید گاہ کے راستے کے حوالے سے کیا سنت منقول ہے؟
جواب 5: عید گاہ جاتے اور وہاں سے واپس لوٹتے وقت راستہ بدل لینا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 6: عید الفطر کے دن تکبیرات کب سے کب تک کہنی چاہئیں؟
جواب 6: گھر سے نکلتے وقت تکبیر کہنا شروع کریں اور جب عید کی نماز مکمل کر لیں تو تکبیر کہنا ختم کر دیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 7: عید کی تکبیرات کے مسنون الفاظ کیا ہیں؟
جواب 7: اللہ اكبر اللہ اكبر لا الہ الا اللہ واللہ اكبر اللہ اكبر وللہ الحمد۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 8: عید کے دن ایک دوسرے کو کس طرح دعا دینی چاہیے؟
جواب 8: ایک دوسرے کو یہ کلمات کہنے چاہئیں: تقبل اللہ منا ومنکم (اللہ ہماری اور آپ کی عبادت قبول فرمائے)۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 9: عید کی نماز کی کل کتنی رکعات ہیں؟
جواب 9: عید کی نماز کی 2 رکعات ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 10: عید کی پہلی رکعت میں دعائے استفتاح (ثنا) کے بعد کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
جواب 10: پہلی رکعت میں 7 زائد تکبیرات (رفع الیدین کے ساتھ) کہی جاتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 11: عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت پڑھی جاتی ہے؟
جواب 11: سورۃ الاعلیٰ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 12: عید کی دوسری رکعت کے شروع میں قیام کی تکبیر کے علاوہ کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
جواب 12: دوسری رکعت میں 5 زائد تکبیرات (رفع الیدین کے ساتھ) کہی جاتی ہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 13: عید کی دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت پڑھی جاتی ہے؟
جواب 13: سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 14: عید کی نماز کا مسنون وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب 14: سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 15: عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز کے وقت میں کیا فرق مستحب ہے؟
جواب 15: عید الاضحٰی کی نماز جلدی اور عید الفطر کی نماز تھوڑی تاخیر سے پڑھنا سنت ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 16: مردوں کے لیے عید کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب 16: اہل علم کے راجح قول کے مطابق عید کی نماز فرضِ عین ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 17: کیا عورتوں کے لیے عید کی نماز پڑھنے کے لیے نکلنا سنت ہے؟
جواب 17: جی ہاں، عورتوں کے لیے عید گاہ جانا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ وہ باپردہ ہوں اور بناؤ سنگھار و خوشبو کے بغیر جائیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 18: حائضہ (ناپاکی کی حالت میں) خواتین کے حوالے سے عید گاہ جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب 18: وہ بھی عید گاہ جائیں گی لیکن نماز کی جگہ (مصلّٰی) سے الگ رہیں گی اور مسلمانوں کی دعا و خیر میں شریک ہوں گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 19: اگر کسی عورت کے پاس پردے کے لیے چادر (جلباب) نہ ہو تو وہ کیا کرے؟
جواب 19: نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق اس کی کوئی بہن اسے اپنی چادر کا کچھ حصہ پہنا دے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 20: عورت کے لیے عید کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے یا عید گاہ جا کر؟
جواب 20: عورت کے لیے عید کی نماز کے لیے عید گاہ جانا افضل ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے اس کا واضح حکم دیا ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 21: کیا خواتین کسی مجبوری کے تحت گھر میں اکیلے یا باجماعت عید کی نماز پڑھ سکتی ہیں؟
جواب 21: اصل سنت عید گاہ جانا ہے، البتہ شیخ بن بازؒ کے مطابق اگر شدید عذر ہو یا عید گاہ نہ جا سکیں تو گھر میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 22: کیا کھلے میدان (عید گاہ) میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز یا تحیۃ المسجد پڑھنا ثابت ہے؟
جواب 22: راجح قول کے مطابق اگر نماز کھلے میدان یا عید گاہ میں ہو تو اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل یا تحیۃ المسجد نہیں پڑھی جائے گی۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 23: اگر عید کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب 23: اگر نماز مسجد میں ہو رہی ہو تو حدیث کے عمومی حکم کے مطابق مسجد میں داخل ہونے کے سبب دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنا درست ہے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 24: عید گاہ یا مسجد میں عید کی نماز کا انتظار کرتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟
جواب 24: انتظار کے دوران کثرت سے تہلیل اور تکبیرات کا ورد کرنا چاہیے یا پھر قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 25: خواتین کو عید کی نماز کے حوالے سے کیا اہم نصیحت کی گئی ہے؟
جواب 25: خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے کاموں کو پہلے سے مکمل کر لیں اور گھروں میں پڑھنے کی آسانی ڈھونڈنے کے بجائے اپنی پوری کوشش کریں کہ عید کی نماز عید گاہ میں باپردہ ادا کریں۔
تين سالہ عالمہ کورس
🏆 آپ کے کل نمبر: 0
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 1: صدقہ فطر نکالنے کا درست وقت کیا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 2: رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کھاتے تھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 3: نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کتنی کھجوریں کھایا کرتے تھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 4: عید گاہ جانے اور واپس آنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 5: عید کے دن راستے کے حوالے سے کیا سنت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 6: عید الفطر کے دن تکبیرات کب ختم کی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 7: عید کی تکبیرات کے مسنون الفاظ کیا ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 8: عید کے دن ملاقات پر کونسے کلمات کہنا سنت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 9: نمازِ عید کی کل کتنی رکعات ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 10: نمازِ عید کی پہلی رکعت میں دعائے استفتاح (ثنا) کے بعد کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 11: پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت کی تلاوت مسنون ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 12: نمازِ عید کی دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 13: دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد کون سی سورت کی تلاوت مسنون ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 14: عید کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 15: عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز کے اوقات میں کیا فرق مستحب ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 16: راجح قول کے مطابق مردوں کے لیے عید کی نماز کا کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 17: عورتوں کے لیے عید گاہ جانے کی کیا شرائط ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 18: حائضہ (ناپاکی کی حالت میں) خواتین کے لیے عید کے دن کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 19: اگر کسی عورت کے پاس عید گاہ جانے کے لیے پردے کی چادر نہ ہو تو کیا کرے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 20: عورت کے لیے عید کی نماز کہاں پڑھنا افضل ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 21: کیا خواتین گھر میں اکیلے یا باجماعت عید کی نماز پڑھ سکتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 22: اگر عید کی نماز میدان (عید گاہ) میں ہو، تو کیا اس سے پہلے یا بعد میں نفل/تحیۃ المسجد پڑھنا ثابت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 23: اگر عید کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو تو مسجد میں داخل ہونے پر کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 24: عید کی نماز کا انتظار کرتے ہوئے کیا کرنا مشروع ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 25: خواتین کے لیے عید کی نماز کے حوالے سے سب سے اہم نصیحت کیا ہے؟
تين سالہ عالمہ کورس
🏆 آپ کے کل نمبر: 0
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
🌙 عید کے دن کے مختصر احکام و مسائل اور نماز عید۔
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 1: صدقہ فطر نکالنے کا درست وقت کیا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 2: رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کھاتے تھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 3: نبی کریم ﷺ عید الفطر کے دن کتنی کھجوریں کھایا کرتے تھے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 4: عید گاہ جانے اور واپس آنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 5: عید کے دن راستے کے حوالے سے کیا سنت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 6: عید الفطر کے دن تکبیرات کب ختم کی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 7: عید کی تکبیرات کے مسنون الفاظ کیا ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 8: عید کے دن ملاقات پر کونسے کلمات کہنا سنت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 9: نمازِ عید کی کل کتنی رکعات ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 10: نمازِ عید کی پہلی رکعت میں دعائے استفتاح (ثنا) کے بعد کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 11: پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد عموماً کون سی سورت کی تلاوت مسنون ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 12: نمازِ عید کی دوسری رکعت میں قیام کی تکبیر کے علاوہ کتنی زائد تکبیرات کہی جاتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 13: دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد کون سی سورت کی تلاوت مسنون ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 14: عید کی نماز کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 15: عید الاضحٰی اور عید الفطر کی نماز کے اوقات میں کیا فرق مستحب ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 16: راجح قول کے مطابق مردوں کے لیے عید کی نماز کا کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 17: عورتوں کے لیے عید گاہ جانے کی کیا شرائط ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 18: حائضہ (ناپاکی کی حالت میں) خواتین کے لیے عید کے دن کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 19: اگر کسی عورت کے پاس عید گاہ جانے کے لیے پردے کی چادر نہ ہو تو کیا کرے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 20: عورت کے لیے عید کی نماز کہاں پڑھنا افضل ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 21: کیا خواتین گھر میں اکیلے یا باجماعت عید کی نماز پڑھ سکتی ہیں؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 22: اگر عید کی نماز میدان (عید گاہ) میں ہو، تو کیا اس سے پہلے یا بعد میں نفل/تحیۃ المسجد پڑھنا ثابت ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 23: اگر عید کی نماز مسجد میں ادا کی جا رہی ہو تو مسجد میں داخل ہونے پر کیا حکم ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 24: عید کی نماز کا انتظار کرتے ہوئے کیا کرنا مشروع ہے؟
Student 1
00:00
Student 2
00:00
Student 3
00:00
Teacher 1
00:00
Teacher 2
00:00
Teacher 3
00:00
سوال 25: خواتین کے لیے عید کی نماز کے حوالے سے سب سے اہم نصیحت کیا ہے؟

My Recordings